Breaking

Showing posts with label دلچسپ و عجیب. Show all posts
Showing posts with label دلچسپ و عجیب. Show all posts

Sunday, 18 February 2018

February 18, 2018

چور کی پرس چھیننے کی کوشش، خاتون نے ناکام بنادی، چور کو پکڑ لیا لیکن پھر اسے اپنے ساتھ کہاں لے گئی؟ پولیس سٹیشن نہیں بلکہ۔۔۔ ایسا کام کر دکھایا جو آج تک کسی نے کسی چور کے ساتھ نہ کیا ہوگا

کوئی جیب تراش یا چور پکڑا جائے تو لوگ پہلے اس کی درگت بناتے اور پھر پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں لیکن کینیڈا میں ایک لڑکی پرس چھیننے کی کوشش کرنے والے چور کو پکڑ کر اپنے ساتھ ایسی جگہ لے گئی کہ سن کر ہر کوئی دنگ رہ جائے گا۔ سی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کینیڈین شہر ایڈمونٹن میں ٹیس ابوگوشے نامی لڑکی سڑک کنارے جا رہی تھی کہ چور اس کا پرس چھین کر بھاگ نکلا۔ ٹیس نے اس کا پیچھا کیا اور کچھ دور جا کر اسے دبوچ لیا۔ چور سے پرس واپس لینے کے بعد وہ اسے پولیس کے حوالے کرنے کی بجائے اپنے ساتھ ہوٹل لے گئی اور اسے کافی پلائی۔
ٹیس نے سی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’چور انتہائی پریشان اور مفلوک الحال لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے کی شکنیں بتا رہی تھیں کہ وہ کسی بڑی پریشانی میں مبتلا ہے۔ کافی پر جب اس نے اپنی صورتحال بتائی تو میرا خدشہ درست ثابت ہوا۔ وہ انتہائی تنگدستی کے دن گزار رہا تھا۔ ‘‘ ٹیس کا کہنا تھا کہ ’’ایسے لوگوں کو ہم پیارومحبت سے راہ راست پر لا سکتے ہیں۔ پولیس کے حوالے کرکے انہیں جیل بھجوا دینا کسی بہتری کا موجب نہیں بن سکتا۔
February 18, 2018

Heer – Ranjha Story in Urdu:



Tarekh mein kuch sachi mohabbat kerne wale aese bhi paye jate hain jin kay wajood to aaj nahain rahe hain leakin un ke mohabbato ke misale aaj bhi de jate hain aur jin kay dilo mein chahat kay diyay jal chuke ho woh un ke aramgaho pe hazari dete hain. Aik aesa he jora Heer aur Ranjhe ka hai jin ke mohabbat to sachi thee leakin hasid dilo ne un kay pyar ko nazar laga de aur un ko milan se pehle moat ke wadi pe utaar deya gya. Aaj bhi latadad chahne wale Heer kay abaye gaou Jhang, Punjab, Pakistan pe ja kay us badnaseed joray ke yaado ko taza kerte aur khud hamesha saath nibhane ke aik dosre ko yaqeen dehaani kerate hain.
Heer, Ranjha ke mashhoor tareen dastan mashhoor shaer Waris Shah ne 1766 mein likhe howe hai. Zayadaeh logo ka kehna hai yeh aik sachi dastan hai aur Waris Shah ne Jhang kay abaye logo se jo dastan sune howe hai usse shaerana andaz mein beyan keya howa hai.
Heer ka taloq aik ameer Jutt gharane se thaa aur woh inthaye khoobsorat larke thee. Ranjha Darya-e-Chenab kay qareeb “Takht Hazara” mein aik Jutt gharane mein paeda howa thaa aur apne charo bhaeyo mein sub se choota thaa. Apne baap ka ladla beta hone kay natay usse baqi bhaeyo ke terah kheto mein mehnat nahain kerne perte thee. Woh bansuri bajaya kerta thaa. Zameen kay mamle pe jhagra hone ke wajah se Ranjha ghar chor deta hai. Waris Shah ke dastan mein yeh likha gya howa hai kay Ranjhay kay bhaee ke biwi Ranjhay ko khana dene se enkar ker dete hai to Ranjha ghar chor deta hai. Phir woh Heer kay gaou pohanch jata hai jaha usse Heer se ishq ho jate hai. Heer ka baap Ranjhay ko raywar ke nokre day de thee. Ranjha jaese bansuri bajata hota thaa Heer mashoor ho jate hai aur Ranjhay se mohabbat kerne lagte hai.  Heer aur Ranjha kafi saal chup kay milte rehte hain aur phir aik dafa Heer ka chacha Qaedo aur us kay walid Chuchak aur walda Malki ko pakkar lete hain. Heer ko majboor keya jata hai kay woh kissi aur “Saida Khera” naame mard kay saath shadi kare.
Ranjhay ka dil tot jata hai aur woh dehe elaqo mein tanha mara, mara phirta rehta thaa. Gorakhnath jo kay jogiyo kay “kanphata” firqe ka bani hota hai us se Ranjhay ke “Tilla Jogian” pe mulaqat ho jate hai. Ranjha kaan chaed leta hai, jogi ka roop ekhteyar ker leta hai aur madi duniya se talouq tor deta hai. Ranjha Rab ka naam le ker phir se Punjab bhar mein mara, mara phirne lagta hai aur Heer kay gaou pohanch jata hai.
Es dafa Heer kay Waldaen Heer ke shadi Ranjhay kay saath kerne kay liye razamand ho jate hain leakin aen shadi kay roz Heer ka chacha Kaedo, Heer ke khurak mein zehar dal deta hai ta kay yeh shadi na ho sake. Ranjha yeh khabar sun ker Heer ke imdad ke liye bhaga, bhaga jata hai leakin badqismati se daer ho chuke hote hai. Ranjha dilbardashta ho ker zehrela laddo khud bhi khaa leta hai aur Heer kay saath woh bhi mar jata hai.

Saturday, 17 February 2018

February 17, 2018

ماچھیوال ضلع اور تحصیل جھنگ کا قصبہ، علاقہ کچھی میں خوشاب مظفر گڑھ روڈ پر واقع ہے۔ ماضی قدیم میں یہ ایک عظیم



ماچھیوال

ضلع اور تحصیل جھنگ کا قصبہ، علاقہ کچھی میں خوشاب مظفر گڑھ روڈ پر واقع ہے۔ ماضی قدیم میں یہ ایک عظیم الشان شہر تھا۔ اس کے دامن میں لوہ کوٹ کا وسیع و عریض قلعہ تھا، جو اب برباد ہو کر ٹیلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ تاریخ اروڑہ ہنس کے مطابق لوہ کوٹ کو رام چندر کے بیٹے لُونے بسایا تھا اور صدیوں تک یہاں آریاؤں کی حکومت رہی۔ ایک زمانہ میں بدھ مت کا مرکز رہا اور ماچھیوال کو دریائی بندرگاہ کی حیثیت حاصل رہی۔ کشمیر کا سامان تجارت اور سندھ کا مال اسی شہر میں اُترتا تھا اور پھر خشکی کے راستے پہاڑی و صحرائی شہروں میں اُونٹوں کے ذریعہ پہنچا دیا جاتا تھا۔ خوشاب ملتان روڈ آباد شاہراہ تھی۔ اس کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے قلعے، چوکیاں سرائیں موجود تھیں۔ آج بھی سرائے کرشنا اور سرائے بھریڑی کے نشانات موجود ہیں۔ آموں اور کھجوروں کے وسیع باغات تھے۔ علاقہ شاداب تھا اور شہرکی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قلعہ کے تین اطراف قریباً پانچ کلومیٹر تک کشادہ میدان تھا، لیکن مختلف زمانوں میں یہ شہر اُجڑتا چلا گیا۔ قلعہ لوہ کوٹ تباہ ہونے کے بعد اس شہر کی رونق اور تجارت ختم ہو گئی،جس زمانہ میں محمود غزنوی نے اس علاقہ پر حملہ کیا تھا، یہ شہر راجہ جے پال کے قبضہ میں تھا۔ محمود غزنوی کے حملوں میں بھی اس شہر کو نقصان پہنچا۔ جب مغلوں کا ابتدائی دَور شروع ہوا تو بھیرہ کے حاکم ماچھی خان نے اس شہر کو دوبارہ بسایا اور شہر اسی کے نام سے بعد میں ماچھیوال مشہور ہوا۔ اس شہر میں ایک بزرگ سخی سلطان کا مزار موجود ہے، جس پر کم و بیش دو گز لمبے اور ایک گز چوڑے پتھروں کی دیوار چُنی ہوئی ہے۔ یہ پتھر برباد شدہ قلعہ لوہ کوٹ کا ورثہ ہیں۔ ماچھی خان کے عہد سے لے کر ۱۸۵۰ء تک ماچھیوال کا شہر اپنی آب و تاب میں مشہور تھا، مگر انگریزی دَور میں شہر کی تجارت بند ہو گئی۔قدیم عمارتیں فوجی پڑاؤ کے لیے مخصوص کر لی گئیں اور جہلم کی طغیانی نے شہر کو مسلسل برباد کیا۔ ماچھیوال کو تیسری مرتبہ بسایا گیا ہے۔ ۱۹۲۴ء میں یہاں اراضی کا بندوبست ہوا اور ایک سرکاری بنگلہ بنایا گیا ۔یہاں مدفون بزرگ سلطان شہید کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ سیاحت کرتے ہوئے ماچھیوال پہنچے تھے اور ان کے ساتھ دیگر دو بھائی بھی تھے۔ تینوں صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ سلطان شہید یہیں ٹھہر گئے۔ باقی دو بھائی میانوالی کی طرف چلے گئے۔ آپ ڈاکوؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ ان کے مزار پر ہر سال پہلی اور تین مگھر کو میلہ لگتا ہے۔ یہ میلہ لوڑی کے نام سے مشہور ہے۔ حکومت نے ز ائرین کی سہولت کے لیے ایک کنواں وقف کیا تھا ،جو اب بھی موجود ہے۔

(کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)
February 17, 2018

واصو: ضلع جھنگ کا قصبہ۔ جھنگ بھکر روڈ پر اٹھارہ ہزاری سے دو میل دور واقع ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ علاقہ قدیم




واصو:

ضلع جھنگ کا قصبہ۔ جھنگ بھکر روڈ پر اٹھارہ ہزاری سے دو میل دور واقع ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ علاقہ قدیم عہد میں علمی اعتبار سے بہت مشہور تھا کیونکہ یہاں ایک زمانہ قبل سنسکرت کی بہت بڑی درسگاہ تھی اور آریائوں نے اس درسگاہ کے اردگرد مضبوط قلعے اور فوجی چوکیاں بنائی ہوئی تھیں، جن کے آثار قدیمہ کے نشانات اور علامتیں اب بھی نظر آتی ہیں۔ بعد میں یہ تمام علاقہ اُجڑ گیا۔ موجودہ قصبہ کی بنیاد چیلا خاندان کے بزرگ واصل حق نے قریباً1010ھ میں رکھی اور یہاں دینی مدرسہ قائم کیا، جو بعد میں ان کی اولاد چلاتی رہی۔ مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کا گزر بھی ایک مرتبہ یہاں سے ہوا تھا۔ کسی زمانہ میں یہ اہم تجارتی شہر تھا ،مگر اب اس کی وہ حیثیت باقی نہیں رہی۔ یہاں طلبا و طالبات کے ہائی سکول اور ہسپتال وغیرہ موجود ہیں۔سکھ عہد سے تھوڑا عرصہ قبل واصو کے چیلہ خاندان میں مولوی درویش محمد ہوئے ہیں۔ وہ عربی اور فارسی کے عالم تھے۔ ضلع جھنگ کے قدیم علمی خاندانوں میں ان کا خاندان سرفہرست شمار ہوتا تھا۔ مولوی درویش محمد کی ایک کتاب ’’احسن المقال‘‘ بہت مشہور ہے، جو جھنگ کے قدیم سیال خاندانوں کی تاریخ کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی خاندان کے مولوی نور محمد چیلہ نے ’’احسن المقال‘‘ کا اُردو ترجمہ کیا اور بعض تراجم کے ساتھ ’’تاریخ ِجھنگ سیال‘‘ کے نام سے کتاب شائع کی۔ادیب اور شاعر سکندر خان حامی کا تعلق بھی واصو قصبہ سے تھا۔
February 17, 2018

چین کی خوبصورت ترین سڑک دیکھ کر حیران ہو جائیں گے



دنیابھر میں جدید ترین سڑکیں بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کہیں سڑکوں سے بجلی پیدا کی جارہی اور کہیں سڑکوں کو جدید ترین انداز میں ڈھالنے کی کوششیں جاری ہیں مگر  دنیا میں ایک سڑ ک ایسی بھی ہے جسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ۔

جی ہاں ، پاکستان کے  دوست ملک چین کے جنوبی علاقےہیپو ناپو کے اہم   ہیپوناپو ایکسپریس وے کو دنیا کی خوبصورت ترین روڈ نہ کہا جائے تو زیادتی ہوگی ۔ چین کے خوبصورت اور پر فضاء مقام کے بیچوں بیچ بننے والی اس سڑک کو دیکھنے والے دنیا بھر سے آتے ہیں ۔
February 17, 2018

سال میں صرف دو بلب تبدیل کرکے 21لاکھ روپے کمانے والا شخص




نیویارک : ویسے تو دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو سال بھر کوئی کام نہیں کرتے لیکن پھر بھی ان کے بینک اکاؤنٹس میں لاکھوں روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ زیادہ تر اپنے خیالات کی وجہ سے کوئی محنت طلب کام کیے بغیر پیسے بٹورتے ہیں، جب کہ کچھ لوگوں نے ایسی کمپنیاں کھول رکھی ہوتی ہیں، یا اتنی سرمایہ کاری کر رکھی ہوتی ہے کہ انہیں کام کیے بغیر ہی سالانہ لاکھوں روپے ملتے ہیں۔
تاہم دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو تھوڑا بہت کام کرکے بھی لاکھوں روپے بٹورتے ہیں، کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو سال کے 365 دنوں میں 12 سے 16 گھنٹے لگاتار کام کرنے کے باوجود بھی لاکھوں روپے نہیں کما پاتے۔ لیکن امریکا کی ریاست جنوبی ڈکوٹا کا ایک شخص ایسا بھی ہے، جو سال بھر میں صرف 2 بار کام کرکے پاکستانی 21 لاکھ روپے سے زائد کماتا ہے۔ اگرچہ اسے کوئی پہاڑ کھودنا نہیں پڑتا، لیکن اسے پہاڑ جتنی اوچائی پر جانا ضرور پڑتا ہے۔ جی ہاں، جنوبی ڈکوٹا کے کیون اسکیمڈٹ نامی شخص سال بھر میں صرف 2 بار ایک ٹی وی چینل کے ٹاور کے بلب تبدیل کرکے سالانہ پاکستانی 21 لاکھ روپے کماتے ہیں۔
کیون اسکیمڈٹ دراصل ریاست جنوبی ڈکوٹا کے چھوٹے سے شہر سیو فالز کے قریب صحرا میں واقع معروف امریکی نشریاتی ادارے نیشنل براڈکاسٹنگ کارپوریشن (این بی سی) کے ذیلی ٹی وی چینل ’کے ڈی ایل ٹی‘ کے ٹاور میں بطور ٹاور الیکٹریشن ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کام صرف ٹی وی کے 1500 میٹر اونچے ٹاور کے بلب تبدیل کرنا ہوتا ہے، جو سال میں صرف 2 بار ہی تبدیل ہوتے ہیں۔ کیون اسکیمڈٹ کو اس کام کے بدلے 20 ہزار امریکی ڈالرز ملتے ہیں، جو پاکستانی 21 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں۔ لیکن اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ کیون اسکیمڈٹ یہ کام کئی سال سے کر رہے ہیں، لیکن ان کے کام کے دنیا بھر میں گزشتہ تین سال سے چرچے شروع ہوئے ہیں۔
ہوا یوں کہ کیون اسکیمڈٹ کے فوٹوگرافر دوست ٹوڈ تھرون نے ان کی ٹی وی ٹاور پر چڑھنے کی ڈرون ویڈیو بنائی، جو دیکھتے ہی دیکھتے نہصرف وائرل ہوئی، بلکہ اس ویڈیو نے امریکا میں متعدد ایوارڈ بھی جیتے۔ ٹوڈ تھرون نے اس ویڈیو کو بنایا ہی ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے تھا، کیوں کہ وہ اس کے علاوہ بھی اس غرض سے متعدد ویڈیوز بنا چکا تھا کہ اسے نیویارک میں ہونے والے سالانہ ڈرون کیمرہ ویڈیو و سیلفی ایوارڈ شو میں ایوارڈ ملے گا۔ خوش قسمتی سے ٹوڈ تھرون کی یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقبول ہوئی، اور اس نے متعدد ایوارڈ جیتے۔ ساتھ ہی کیون اسکیمڈٹ کی بہادری، نوکری اور تنخواہ کے بھی چرچے ہوئے۔ اس ویڈیو کو یوں تو 2010 کے بعد بنایا گیا تھا، لیکن اسے یوٹیوب پر 2014 میں اپ لوڈ کیا گیا۔
یوٹیوب پر اسے ’پریئری ایریل‘ نامی چینل کی جانب سے اپ لوڈ کیا گیا، جسے پہلے ہی ہفتے میں 10 لاکھ بار دیکھا گیا، اب تک اس ویڈیو کو 96 لاکھ سے زائد بار دیکھا جاچکا ہے۔ اسی چینل نے یوٹیوب پر اسی طرح کی دیگر ڈرون ویڈیوز بھی اپ لوڈ کر رکھی ہیں۔
February 17, 2018

آنکھوں کا رنگ تبدیل کرنے کا سادہ ترین طریقہ





آنکھوں کا رنگ " 
اسلام آباد: مرد ہوں یا خواتین ہر کوئی آنکھوں کے رنگ تبدیل کرنے کا شوق رکھتا ہے اور وہ اپنے اس شوق کی تکمیل کیلئے وہ لینزوں کا سہارا لیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ امریکی کمپنی نے ایک نئی لیزر سرجری ایجاد کی ہے جس کے ذریعے انسان اپنی آنکھوں کا رنگ نیلےرنگ میں تبدیل کرسکتاہے۔
کیلی فورنیا میں مبنی اسٹروما میڈیکل نے کم سے کم 37 لوگوں کی مٹیالے رنگ کی آنکھوں کو نیلے رنگ میں تبدیل کیا ہے۔ اس سرجری میں لیزر کے ذریعے آنکھوں میں موجود آئرس کی سطح سے براؤن میلانن کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
براؤن میلانن کے بغیر روشنی آنکھوں میں داخل ہوتی ہے اور اسٹروما میں پھیل جاتی ہے جس کی مدد سے نیلا رنگ نمودار ہوتا ہے۔
February 17, 2018

خیبر پختوخواہ میں دنیا کا قدیم ترین مجسمہ دریافت




خیبر پختوخواہ میں دنیا کی قدیم چیز کی دریافت سے سری لنکا اور برما میں ہلچل مچ گئی
لاہور(اسامہ): پاکستان میں قدیم ترین مجسمے کی دریافت نے سب کو حیران کر دیا۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبرپختون خواہ سے سترہ سو سال پرانہ یہ مجسمہ دنیا کا قدیم ترین ”سلیپنگ بدھا“ باقیات میں شامل ہوتا ہے۔ مجسمہ کی لمبائی 48فٹ ہے۔
واضح رہے کہ موریا حکمرانوں کے دور میں تقریباً 2300 سال قبل یہ علاقہ بدھ مت کا گڑھ تھا۔ خیبر پختون خواہ میں کھدائی کا کام 1929 میں شروع ہوا اور اس مقام سے 500 سے زائد اشیاءتلاش کی جا چکی ہیں۔
امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس تاریخی دریافت سے سیر و سیاحت کے شعبے میں ترقی آئے گی۔صوبائی حکومت نے ثقافتی ورثے کے مقامات کی دیکھ بھال کی یقین دہانی کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ حالیہ دریافت مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یاد رہے سری لنکا اور برما کے ماہرین آثار قدیمہ نے خوشی کا اظہار کیا  ہے، اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے جلد ہی رابطہ کیا جائے گا
February 17, 2018

دنیا کا ذہین ترین بچہ ۔۔ تعلق کس ملک سے ؟جان کر خوش ہو جائیں گے



اسلام آباد: مصر کے 13 سالہ بچے عبدالرحمان حسین نے دنیا کے ذہین ترین بچے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مصر کے 13 سالہ طالب علم عبدالرحمان حسین نے دنیا کا ذہین ترین بچہ ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ ملائیشیا میں منعقد ہونے والے ذہانت کے مقابلے میں 70 سے زائد ممالک کے 3000 بچوں نے شرکت کی، تاہم عبدالرحمان نے صرف 8 منٹوں میں ریاضی کے 230 مشکل سوالات حل کرکے دنیا بھر کے 3000 بچوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔اعزازحاصل کرنے کے بعد 13 سالہ عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ کامیابی کا تمام تر سہرا اساتذہ کے سر جاتا ہے جنہوں نے مقابلے میں شرکت کیلئے اسے خصوصی تربیت دی جبکہ ان اساتذہ میں سرفہرست خاتون استاد بتول محمد منتصر ہیں۔

عبدالرحمان کی خاتون استاد بتول محمد منتصر کا کہنا ہے کہ یادداشت اور مشاہدے کو مضبوط بنانے کیلئے عبدالرحمان کی تربیت کا آغاز 2014 سے کیا گیا۔ اس دوران پیچیدہ نوعیت کی ذہنی مشقوں سے یہ بات سامنے آئی کہ عبدالرحمان کی ذہنی استعداد اور کام کرنے کی رفتار میں بڑی حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ مقابلے میں امیدواروں کو 4 صفحات پر مشتمل ریاضی کے 315 پیچیدہ سوالات دیئے گئے تھے اور انہیں مقررہ وقت میں ان میں زیادہ سے زیادہ سوالات کو حل کرنا تھا۔ مقابلے میں عبدالرحمان نے سب سے زیادہ 230 سوالات حل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
February 17, 2018

دنیا کی دوسری معمر ترین ویلا نامی ’گوریلا‘61 سال کی عمر میں چل بسی




سان ڈیاگو:دنیا کی دوسری معمر ترین ’گوریلا‘ 61 سال کی عمر میں چل بسی۔برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق سان ڈیاگو کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ان کے پاس موجود مشہور ویلانامی مادہ گوریلا بیماری کی حالت میں چل 
بسی ہے۔انتظامیہ نے بتایا کہ قومی امکان ہے کہ گوریلا دنیا کی دوسری معمر ترین ہے۔

رپورٹ کے مطابق گوریلا اکتوبر1957 کو کانگو میں پیدا ہوئی تھی جبکہ اسے 1959 ءمیں سان ڈیاگو لایا گیا پھر اسے سان ڈیاگو کے ہی سفاری پارک میں 1975 ءمیں منتقل کردیا گیا۔چڑیا گھر انتظامیہ کی جانب سے موت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا گیا کہ اسے گنٹھیا ہوگیا تھا اور اسے اور بھی بیماریاں لاحق ہوگئیں تھی جس سے وہ کافی عرصے سے لڑ رہی تھی۔

جانوروں کے ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا علاج کررہی تھی اور اسے ایک خاص قسم کا علاج فراہم کیا گیا جس سے اس کا چہرہ خراب ہوگیا تھا ۔ویلا کی موت کی خبر کا جب لوگوں کو پتا چلا تو انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اب ایک شناسا چہرہ ان کو نظر نہیں آئے گا اور گوریلا کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گا۔
February 17, 2018

دنیا کا پر اسرار ترین ریڈیو اسٹیشن جسے 35سالوں سے کوئی نہیں چلا رہا مگر اس کی نشریات جاری ہیں



ماسکو :روسی دلدلی علاقے کے وسط میں، جو سینٹ پیٹرزبرگ سے زیادہ دور نہیں،  چوکور لوہے کے دروازوں کی بنی عمارت ہے۔دروازے کی زنگ آلود سلاخوں کے پیچھے کئی ریڈیو ٹاور ہیں۔ یہ عمارت سرد جنگ کے زمانے سے ہی پراسراریت میں لپٹی ہوئی ہے۔

یہ عمارت MDZhB نامی ریڈیو اسٹیشن کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اس ریڈیو کے متعلق آج تک کسی نے دعویٰ نہیں کیا کہ وہ اسے آپریٹ کرتا ہے۔یہ پچھلے35 سالوں سے دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے سات دن چلتا رہتا ہے۔تاہم اس پر چلنے والی ٹیون کافی بھدی اور ایک سی ہے۔ ہر چند سیکنڈ بعد اس میں ایک دوسری آواز شامل ہوجاتی ہے۔ 
اس ریڈیو پر ہفتے میں ایک یا دو بار ایک مرد یا عورت کی آواز بھی آتی ہے جو روسی زبان میں ایک یا دو لفظ پڑھتے ہیں۔ پوری دنیا میں کوئی بھی شخص 4625 kHz فریکوئنسی سیٹ کر کے اس ریڈیو کو سن سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ریڈیو اسٹیشن کی آن لائن فین فالونگ لاکھوں میں ہے۔ لوگ اسے the Buzzer کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی طرح کے دو اور پر اسرار ریڈیو اسٹیشن the Pip اور Squeaky Wheel بھی ہیں۔حیرت انگیز
طور پر ان ریڈیو اسٹیشن کے  سننے والے بھی اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم وہ کیا سنتے ہیں
February 17, 2018

خواب حقیقت بن گیا ۔۔۔ رات کو سوتے میں نمبر دیکھا اور اُسی نمبر نے کروڑ پتی بنا دیا



ورجینیا (ویب ڈیسک) خواب میں دکھائی دینے والے نمبرز نے نوجوان کو کروڑپتی بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق امریکہ میں ایک دلچسپ واقعہ رونما ہوا ،جب خواب نے حقیقت کا روپ دھار لیا، ورجینیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان وکٹر ایملے پر قسمت کی دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ وہ خود بھی حیران رہ گئے۔کمپیوٹر پروگرامر وکٹر کو خواب میں کچھ عجیب نمبرز دیکھے، وکٹر نے ان نمبرز کو لاٹری کے چار ٹکٹوں پر آزمایا، وکٹر کے گمان میں نہیں تھا کہ اسکے ہرلاٹری ٹکٹ پر ایک لاکھ ڈالر کا انعام نکل آئے گا۔وکٹر نے چار لاکھ ڈالر کی رقم جیت لی جو پاکستانی روپوں میں چارکروڑ بنتی ہے۔ایملے کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ایسا خواب کبھی نہیں آیا اور سوچ رہا ہوں کہ انعامی رقم کیسے خرچ کروں۔

Friday, 16 February 2018

February 16, 2018

خالص شہد کی پہچان کرنے کا نہایت آسان طریقہ





الص شہد کی پہچان کرنے کا نہایت آسان طریقہ. آج ہی تمام لوگ یہ عمل کریں اور فوراً پتا لگا لیں کے کہیں آپ جعلی شہد تو نہیں کھا رہے؟
شہد بے شمار امراض کی دوا ہے اور یہ بغیر کسی مضر اثرات کے بہت سی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔ کئی سائنسی تحقیقوں میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ شہد تمام بیماریوں کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے۔
لیکن ہمیں دستیاب ہونے والا ہر شہد خالص نہیں ہوتا۔ آج کل بازاروں میں جعلی شہد کی فروخت عام ہے کیوں کہ عموماً اکثر افراد شہد کے اصل یا نقل ہونے کی پہچان نہیں رکھتے۔
یہاں ہم آپ کو خالص شہد کی پہچان کرنے کے کچھ طریقے بتارہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ یقیناً جعلی شہد خریدنے سے بچ جائیں گے۔
پانی میں حل کریں
خالص شہد کی پہچان کا سب سے آسان طریقہ اسے پانی میں حل کر کے دیکھنا ہے۔ ایک گلاس میں پانی لے کر شہد سے بھرا چمچ اس میں ڈال دیں۔ اگر شہد خالص ہوا تو یہ پانی میں حل نہیں ہوگا۔
اگر خالص نہ ہوا تو حل ہو جائے گا یعنی اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد گڑ سے بنایا گیا ہے۔
آگ سے جلائیں
ایک عدد موم بتی لیں اور اس میں موجود کاٹن کی بتی کو شہد میں بھگو کر ایک بار جھٹک دیں۔ اب اسے لائٹر سے آگ لگانے کی کوشش کریں۔ اگر یہ بتی آگ پکڑ لے تو سمجھ جائیں کہ شہد خالص ہے۔
گاڑھا پن
خالص شہد عموماً گاڑھا ہوتا ہے۔ اس کو دیکھنے کے لیے شہد کو ایک چمچے میں بھریں اور اسے کسی برتن میں خالی کرنے کی کوش کریں۔
اگر یہ آہستگی سے چمچ سے نیچے گرے تو قوی امکان ہے کہ یہ اصلی ہے۔ جعلی شہد مائع کی صورت میں تیزی سے چمچے سے بہنے لگے گا۔
ڈبل روٹی پر لگائیں
شہد کو ڈبل روٹی پر لگائیں۔ اگر ڈبل روٹی سخت رہے تو اس کا مطلب ہے کہ شہد خالص ہے۔ اگر ڈبل روٹی نرم ہو کر شہد میں بھیگنے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد چینی سے بنایا گیا ہے۔
فریج میں رکھیں
خالص شہد فریج میں رکھنے کی صورت میں جم جاتا ہے اور مزید گاڑھا ہوجاتا ہے تا وقتیکہ اسے فریج سے باہر رکھ کر معمول کے درجہ حرارت پر نہ لایا جائے۔ نقلی شہد فریج میں رہنے کے باوجو جوں کا توں مائع حالت میں برقرار رہتا ہے۔
جذب کرنے والا کاغذ
شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ پر ٹپکا دیں۔ اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کر گیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں ہے۔ خالص شہد کاغذ کی سطح پر موجود رہے گا۔

February 16, 2018

’’بونوں کی دنیا کہانی یا افسانہ نہیں بلکہ حقیقت‘‘



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بونوں کی کہانیاں اگر کسی نے نہیں بھی پڑھی تو بونوں سے متعلق کوئی واقعہ کسی سے ضرور سنا ہو گا۔ بونوں کی موجودگی کی افواہیں پاکستان میں بھی 1996-97میں زور و شور پر رہیں،اسلام آباد راولپنڈی کو ملانے والی سڑک آئی جی پی روڈ پرواقعہ کٹاریاں پل کے قریب بونوں کے نکلنے کی افواہ نے سارے ملک میں ہلچل مچا دی تھی اور ہزاروںکی تعداد میں لوگ سارا دن کٹاریاں پل پر کھڑے ہو کر بونوںکو دیکھنے کے چکر میں گزار دیتے تھے ۔
ملک کے دور دراز علاقوں سے لوگوں کی کثیر تعداد یہاں آنے لگگئی تھی جس کی وجہ سے راولپنڈی اسلام آباد کی اس شاہراہ پر رش کی وجہ سے ٹریفک جام معمول بن گیا تھا جس کی وجہ سے انتظامیہ کو دفعہ 144بھی نافذ کرنی پڑی تھی تاہم اب انڈونیشیا میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا جو افواہ نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ انڈونیشیا کے جنگلات میں موٹر سائیکل دوڑاتے بائیکروں کی ایک ٹیم کا سامنا بونوں سے ہو گیا ۔ موٹر سائیکل سواروں کا کہنا ہے کہ اچانک ایک ننگ دھڑنگ بونے نے نمودار ہو کر ان کے سامنے دوڑ لگا دی جس کا انہوں نے پیچھا بھی کیا مگر اس کی رفتار موٹر سائیکل سے بھی تیز تھی اور پلک جھپکنے میں وہ غائب ہو گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی انڈونیشیا کے جنگلات میں بونوں کی موجودگی کی رپورٹس شائع ہو چکی ہیں جن میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ بونوں کا ایک قبیلہ 5000سال سے ان جنگلات میں آباد ہے مگر تلاش بیسار کے باوجود اس کا سراغ نہیں لگایا جا سکامگر یہ بونے اپنی موجودگی کا احساس مختلف اوقات میں دلاتے رہتے ہیں اور انڈونیشیا کے جنگلات کی سیر کرنے والے سیاحوں کا آمنا سامنا ان سے ہوتا رہتا ہے۔

Thursday, 15 February 2018

February 15, 2018

’میں 2030ءسے واپس آیا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ۔۔۔‘ سب سے عجیب و غریب دعویٰ کرنے والے اس لڑکے کا جھوٹ مشین کے ذریعے پکڑنے کی کوشش کی گئی تو نتیجہ کیا نکلا؟ جان کر آپ کا بھی منہ حیرت کے مارے کھلا کا کھلا رہ جائے گا




ٹائم ٹریول، یعنی زمانہ حال سے ماضی یا مستقبل میں جانے کے مناظر آپ نے قصے کہانیوں اور فلموں میں تو ضرور دیکھے ہوں گے لیکن امریکا میں ایک نوجوان نے سچ مچ یہ دعوٰی کر ڈالا ہے کہ وہ 2030 کے زمانے سے آج کی دنیا میں واپس آیا ہے۔ ’اے پیکس ٹی وی‘ کی جانب سے یو ٹیوب پر اس نوجوان کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ بتاتا ہے کہ اس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر وقت میں پیچھے کی جانب سفر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اس دنیا کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہے کہ مستقبل میں ان کے لئے کس طرح کے حالات منتظر ہیں۔ اس نے متعدد باتیں بتائی ہیں، جن میں بٹ کوئن کرنسی کا عام ہوجانا،
گھروں اور کاروبار کو مکمل طو رپر ٹیکنالوجی سے کنٹرول کیا جانا اور ہر شخص کا گوگل گلاس سٹائل روبوٹک ڈیوائس کا استعمال کرنا، وغیرہ شامل ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2030ءمیں امریکی صدر ایک انتہائی پراسرار شخصیت ہو گی جس کا نام ’ایلانا رامکی‘ ہو گا۔ مزید یہ کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے شمالی امریکہ کا درجہ حرارت بہت بڑھ جائے گا لیکن اس کے برعکس یورپ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ 10 سال بعد انسان سیارہ مریخ پر پہنچ چکا ہوگا جبکہ اس وقت تک ٹائم ٹریول کی ٹیکنالوجی بھی عام ہوچکی ہوگی۔ جب اس نوجوان کے حیرتناک دعووں پر شکوک و شبہات سامنے آنے لگے تو فیصلہ کیا گیا کہ جھوٹ پکڑنے والی مشین کے ذریعے اس کا ٹیسٹ کیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جھوٹ پکڑنے والی مشین نے بھی اسے پاس کر دیا ہے۔ اس کے باجود سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد اس کی باتوں کو ناقابل یقین قرار دیتے ہوئے اس پر اعتبار کرنے کو تیار نظر نہیں آتی۔
February 15, 2018

گر تم کو سبق یاد نہیں کان پکڑ لو




سننی کوئی فریاد نہیں کان پکڑ لو

ہر شخص پہ واجب ہے یہاں کان پکڑنا
تم رسم سے آزاد نہیں کان پکڑ لو

یہ عشق نگر ہے یہاں دستور الگ ہیں
معمول ہے، ایجاد نہیں، کان پکڑ لو

ہنسنے کا یہ مقام نہیں، سوچنے کا ہے
اتنا بنو استاد نہیں کان پکڑ لو

آسان یہ ہوتا نہیں اقدار سمجھنا
یہ ضبط ہے، مرصاد نہیں، کان پکڑ لو

ہر دور سے ہر شخص کو حصہ ملا اپنا
ہوتا کوئی داماد نہیں کان پکڑ لو

حسام تو استاد کی راہوں پہ چلا کر
بٹتی یہاں پرساد نہیں کان پکڑ لو

February 15, 2018

جعلی موبائل اور فون چارجز کی شنانخت کے چھ آسان طریقے جانئے اور بڑی پریشانی سے بچئے





خریداری سے قبل عموماً لوگ اس بات کی جانب کم ہی توجہ دیتے کہ یہ چیز اصل ہے یا نقل.تاہم جب وہ چیز خرید لیتے ہیں تو انہیں اس کے جعلی ہونے کا علم ہوتا. یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بہت سے لوگ اس بات کا تعین ہی نہیں کرپاتے کہ موبائل یا چارجر اصلی ہے بھی یا نہیں.تاہم حال ہی میں کچھ ماہرین نے اصل فون اور چارجز کو پہچاننے کے لئے کچھ اہم نشانیاں بتائی ہیں جوکہ درج ذیل ہیں.
1
. پیکنگ کو بغور دیکھیں عام طورجعلی سیلز کی پیکنگ کرنے والے اتنی توجہ سے کام نہیں کرتے ہیں . جس سے اس میں کچھ نہ کچھ گربڑ رہ ہی جاتی ہے .لہٰذا سب سے پہلے ڈبے پر موجودپیکنگ خصوصاً پلاسٹک کو دیکھیں کیوںکہ اس کی موٹائی چوڑائی اصل کے مقابلے میں ضرور مختلف ہو گی .ساتھ ہی ساتھ اس کی پرنٹنگ کوالٹی پر بھی غور کرنا چاہیے کیونکہ اس میں ضرور کوئی نہ کوئی خرابی ہوگی. 2
صارف کی راہنمائی کے لئے دئیے گئے یوزر مینول کی زبان یوزرمینول کسی بھی موبائل فون کا پاسپورٹ کہلاتا ہے . اس کی زبان پرخصوصی توجہ دینا چاہیے . اگر یہ اسی ملک کی زبان میں ہے جہاں سے یہ خریدا گیاہے تو یہ اصل ہی ہو گا. تاہم اگر یہ کسی دوسرے ملک زبان میں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سیل یا جعلی ہے یا کسی دوسرے ملک سے اسمگل کیا گیا ہے
. 3 . چارجر یا موبائل کی کوالٹی کو پرکھیں کوئی بھی الیکٹرانک کی چیز خریدتے ہوئے اس بات کا دھیان رکھیں کہ اس کی کوالٹی کس قسم کی ہے . آیا یہ اچھی کوالٹی کا ہے بھی یا نہیں . اگر اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جعلی ہے . کیونکہ جعلی اشیاء بنانے والے کمپنیاں اچھا میٹرئیل استعمال نہیں کرسکتی ہیں.
4 .کمپنی کا لوگو( logo) کوئی بھی موبائل فون یا چارجر خریدنے سے قبل اس بات پر خصوصی توجہ دیں کہ اس پر موجود کمپنی کا لوگو بالکل ویسا ہی ہے جیسا انہوں نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کیا ہواہے. اگر یہ ہوبہو ویسا ہی ہے تو اس کا مطلب یہ چیز اصل ہے. 5 .موبائل چارجر کی ساخت خریدتے وقت یہ بات ضرور مدنظر رکھنی چاہیے کہ کمپنی کے اصل چارجر کی ساکٹ پن نقلی سے مختلف ہوتی ہے.
اصل چارجرکی ساکٹ پن کی موٹائی ایک سی نہیں ہوتی ہے جب کہ نقلی ساکٹ پن کی موٹائی یکساں ہوتی ہے. 6 .چارجر پن کی لمبائی اصل اور نقل چارجر پن کی لمبائی میں بھی فرق ہوتا ہے . اصل چارجر کی پن کی لمبائی زیادہ جب کہ نقلی کی لمبائی کم ہوتی ہے.
February 15, 2018

آپ جانتے ہیں علی خان ترین کی منگیترکون ہیں؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیںاور انہوںنے علی ترین سے شادی کی شرط کیا رکھی ہے جس کے پورا ہوتے ہی وہ ان سے شادی کر لیں گی ؟ دلچسپ انکشاف



لاہور (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کی جانب سے این اے 154 لودھراں کی خالی نشست پر جہانگیر ترین کے بیٹے علی خان ترین کو امیدوار نامزد کیا گیا تھا، یہ نشست جہانگیر ترین کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی لیکن گزشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب میں‌ن لیگ کے سید اقبال شاہ فاتح رہے جبکہ علی ترین دوسرے نمبر پر رہے 2013 میں ان کی منگنی بسمہ احمد سے ہوچکی ہے
اور ایم بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہو جائیں گے۔ جہانگیر خان ترین کے صاحبزادے لودھراں کے عوام میں اپنے سماجی کاموں کی وجہ سے کافی مشہور ہیں، وہ اپنے والد کے ٹرسٹ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔علی خان ترین اپنے والد کے بزنس کو بھی کامیابی سے چلاتے ہیں اور مزید یہ کہ سماجی و رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔
علی ترین ترین ویلفئیز فاؤنڈیشن کے تحت 2010ء سے جنوبی پنجاب بالخصوص لودھراں میں سماجی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ترین ویلفئیر فاؤنڈیشن نے علاقہ میں طلبا کے لیے 8 ہائیر اسکینڈری اسکولز، طالبات کے لیے 7 اسکولز، لودھراں کی طالبات کے لیے پہلا گرلز کالج اور لودھراں کی غریب عوام کے لیے دو اسپتال تعمیر کروائے جہاں غریب عوام کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔
February 15, 2018

ٓٓاصلی دو ست کی کیا پہچان ہے؟



ایک عام دوست آپ کے گھر مہمان کی طرح داخل ہوتا ہے اور تکلف برتتا ہے جبکہ ایک اصلی دوست آپ کے گھر آتے ہی سیدھا فریج کی جانب بڑھتا ہے اور بالکل ایسے ہی رہتا ہے جیسے اس کا اپنا گھر ہو۔ ایک عام دوست نے آپ کو کبھی روتے نہیں دیکھا ہوتا جبکہ ایک اصلی دوست کے کندھے آپ کے آنسوؤں سے وقتا فوقتا بھیگتے رہتے ہیں۔ عام دوست آپ کے والدین کے نام ٹھیک سے نہیں جانتا
لیکن ایک اصلی دوست کے فون میں آپ کے والدین کا نمبر بھی سیوڈ ہوتا ہے اور اس کی آپ کے والدین کے ساتھ اچھی بھلی سلام دعا ہوتی ہے۔ عام دوست آپ کی پارٹی میں تحائف لے کر شامل ہوتا ہے جبکہ اصلی دوست صبح سویرے سب سے پہلے آتا ہے تاکہ پارٹی کے انتظامات میں مدد کر وائے مدد کر وائے اور رات گئے سب سے آخر میں واپس جاتا ہے کیونکہ وہ آپ کی صفائی میں مدد کراتا ہے۔ آپ کے بستر میں گھس جانے کے بعد کبھی کسی اصلی دوست کا فون نہیں آتا ۔ اگر آ جائے تو آپ دل سے چڑ جاتے ہیں مگر ایک اصلی دوست کا فون ہمیشہ بیڈ میں گھسنے کے بعد ہی آتا ہے کیونکہ آپ روز بات کرتے ہیں۔ بلکہ آپ اس پر غصے ہوتے ہیں کہ اس نے فون کرنے میں اتنی دیر کیوں کر دی۔ عام دوست آپ کے پاس اپنے مسائل کے حل پوچھنے آتا ہے لیکن اصلی دوست کے پاس آپ خود اپنے مسئلے لے کر جاتے ہیں۔ عام دوست آپ سے آپ کی رومانوی داستانیں پوچھتا ہے۔
اصلی دوست آپ کو آپ کی رومانوی تاریخ پوری کی پوری سنا سکتا ہے اور آپ کو اس کی باتیں کر کے چھیڑتا ہے اور بلیک میل کرتا ہے۔ چھیڑ خوانی کی نیت سے۔ کسی سنگین بحث کے بعد عام دوست طیش میں آجاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دوستی ختم۔ اصلی دوست سخت ترین لڑائیاں کرتا ہے اور اس کے بعد ناراضگی کے باوجود بار بار فون کرتا ہے۔ عام دوست آپ سے امید رکھتا ہے کہ آپ ہمیشہ اس کی مدد کریں گے، اصلی دوست کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ وہ ہمیشہ آپ کے حق میں مثبت ثابت ہو گا۔
عام دوست تھوک کے حساب سے بھی ہو سکتے ہیں اور کسی کم سوشل انسان کے لیے بہت تھوڑے سے بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اصلی دوست ایک یا دو ہوتے ہیں بس۔ اصلی دوست کی آپ کو ایسے عادت ہوتی ہے جیسے فیملی، در حقیقت وہ فیملی سے زیادہ قریب ہوتا ہے کیونکہ دوست ہم خود چنتے ہیں اور ان کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ دوست ہمیشہ دیکھ کر بناؤ۔ آپ کے دوست آپ کی زندگی پر بہت گہرہ اثر مرتب کرتے ہیں اور آپ کا کل سرمایہ ہوتے ہیں۔ عام دوستبنانے میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن اصلی دوست کی اہمیت اور اس کا مقام پہچاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔